ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بی جے پی ایسی اکیلی پارٹی، جو ریٹائر مسلم ممبران پارلیمنٹ کو دوبارہ راجیہ سبھابھیج رہی ہے

بی جے پی ایسی اکیلی پارٹی، جو ریٹائر مسلم ممبران پارلیمنٹ کو دوبارہ راجیہ سبھابھیج رہی ہے

Wed, 01 Jun 2016 21:29:36    S.O. News Service

 

کانگریس،راجد،جدیو،ایس پی اوربی ایس پی سمیت تمام سیکولرپارٹیوں نے مسلمانوں کونظراندازکیا

نئی دہلی یکم جون(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)سال 2014کے عام انتخابات میں 545رکنی لوک سبھا میں محض 23مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے، مسلم ممبران پارلیمنٹ کی یہ تعداداب تک کی سب سے کم ہے۔پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرنے والے اور آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سے مسلم سماج کا ایک بھی رکن منتخب ہوکر نہیں آیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں اورمبصرین کا الزام ہے کہ مہم کے دوران بی جے پی کے ہندوتوا کے ایجنڈے کی وجہ سے ووٹروں کے پولرائزیشن کے چلتے یہ نوبت آئی۔اس کے تقریباََ دوسال بعد11جون کو ہو رہے راجیہ سبھا کے دو انتخابات خدشات سے بھرا پیغام دے رہے ہیں۔ایوان بالا سے جو 58رہنما ریٹائر ہو رہے ہیں جن میں سے چھ مسلمان ہیں۔ان میں سے، اے اے ٹاک اور محسنہ قدوائی کانگریس سے، ایم جے اکبر اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی بی جے پی سے، سلیم انصاری بی ایس پی سے اورغلام رسول بلاوی جے ڈی یوسے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ کانگریس کی جانب سے اب تک اعلان کئے گئے امیدواروں،پی چدمبرم،کپل سبل، جے رام رمیش، وویک تنکھا، آسکر فرنانڈیز، امبیکا سونی، ورما اور پردیپ ٹمٹا میں ریٹائر ہوئے ان دونوں مسلم ارکان کو جگہ نہیں ملی ہے۔اس بات کے اشارے بھی نہیں ہیں کہ کانگریس کے ان دونوں مسلم ارکان میں سے کسی کی بھی واپسی نہیں ہونے والی ہے۔یوپی سے بی ایس پی کے سلیم انصاری ریٹائر ہو رہے ہیں اور مایاوتی کی پارٹی نے پارٹی کے برہمن چہرے ستیش چندر مشرا کے علاوہ اشوک سدھارتھ کو امیدوار بنایا ہے۔یوپی میں مسلمانوں کے ووٹوں پردعویداری جتانے والی سماج وادی پارٹی نے بھی راجیہ سبھا کے لئے ایک بھی مسلم امیدوارنہیں بنایاہے۔پارٹی کے دولیڈر ریٹائر ہو رہے ہیں اور یہ اب سات رہنما ایوان بالا میں بھیج سکتی ہے۔اس طرح لوک سبھا میں مسلم چہرے کے لئے ترس رہے یوپی سے اب یہ تقریباََ طے ہو گیا ہے کہ اگست میں دوممبران پارلیمنٹ کے ریٹائر ہونے کے بعد صرف چار مسلم چہرے رہیں گے۔اس طرح سے یوپی کے چار کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی صرف چارلوگ کریں گے۔بہارسے حکمراں جے ڈی یو کے غلام رسول کی واپسی نہیں ہو رہی ہے۔پارٹی نے سابق صدرشردیادو،نتیش کمار کے قریبی آرسی پی سنگھ کواتاراہے۔دوسری طرف ان کے ساتھی لالوپرساد یادو نے اپنی بیٹی میسا بھارتی اور اپنے وکیل رام جیٹھ ملانی کی امیدواری پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ان سب سے الگ بی جے پی نے اپنے دونوں چہروں کودوبارہ راجیہ سبھا میں موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی نے مختار عباس نقوی کوجھارکھنڈاورایم جے اکبر کو مدھیہ پردیش سے امیدوار قرار دیا ہے۔بجٹ سیشن کے اختتام تک راجیہ سبھا میں 24مسلم ممبر تھے لیکن جون 11کے انتخابات کے بعدیہ گھٹ کر 20رہ جائیں گے۔

 


Share: